،صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید خان کی زیر صدارت سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری لیبر احمد جاوید قاضی، وائس کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن حامد ملہی، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ میاں جمیل احمد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔  اجلاس میں ادارہ کی کارکردگی اور جاری پراجیکٹس پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر لیبر نے افسران کو تمام پراجیکٹس مقررہ مدت میں مکمل کرنے ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں موجود ورکرز کا ڈیٹا بنک تشکیل دیا جائے جس سے ایمرجنسی حالات میں مالی امداد کیلئے مستحق افراد تک رسائی آسان ہو سکے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتوں اور کاروباری اداروں کی انسپیکشن کا جدید نظام متعارف کروایا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لیبر انسپکٹر کی انڈسٹری میں موجودگی کوچیک کیا جاتا ہے اور ریکارڈ ڈیٹا سسٹم میں جمع ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے محکمہ کی استعدادکار میں اضافہ کے ساتھ نظام کو مزید شفاف بنارہے ہیں۔ سوشل سکیورٹی اسپتالوں کی کارکردگی، میڈیکل سٹاف کی مانیٹرنگ کیلئے سسٹم قائم کیا گیا ہے۔محکمہ میں فرسودہ نظام کا خاتمہ کرکے ورکرز، صنعتکاروں اور کاروبار ی حضرات کیلئے عمل کو سہل بنایا جارہا ہے۔عنصر مجید نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو سالوں میں ایک لاکھ 20ہزار سے زائد ورکرز کو R-5کارڈز جاری کئے گئے جبکہ سابقہ حکومتوں کے آٹھ سالوں میں صرف 95ہزار ورکرز کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعت کاری اور سرمایہ کاری کے اہداف کاروبار میں آسانیاں پیدا کرکے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ معیشت کے فروغ میں لیبر فورس کا بنیادی کردار ہے، ان کی فلاح وبہبود کے لئے موثر اقدامات کر رہے ہیں۔محکمہ لیبر میں اصلاحات کے ذریعے ایسا نظام لائیں گے کہ کوئی حکومت اسے تبدیل نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز کی فلاح اور اُن کے حقوق کا تحفظ حکومت کی پہلی ترجیحی ہے۔ سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں ورکرز کی سہولت کے لئے ای کارڈ سسٹم لایا جارہا ہے جس سے رجسٹرڈ ورکرز کا ریکارڈ آن لائن موجو د ہو گا اور مریض کو بروقت علاج اور  ادوایات کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سیکرٹری لیبر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ نے سکروٹنی کے بعد تعلیمی اداروں کو ایجویشن سکالرشپس کی مد میں دیئے جانے والے فنڈز کی فراہمی شروع کر دی  ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور مالی بے قائدگیوں کی تحقیقات کے دوران تعلیمی اداروں کو ورکرز کے بچوں کی فیس کی مد میں دی جانے والے فنڈز کی فراہمی میں تعطل آیا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ سکالر شپ گرانٹ کیلئے آن لائن درخواستیں وصول کی جائیں۔ احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ86فیصد صنعتیں اور کاروباری  حکومت کو سوشل سکیورٹی کنٹری بیوشن آن لائن جمع کروا رہے ہیں جس سے نظام میں مزید شفافیت لائی جا رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here